نئی دہلی،29؍جنوری(ایس او نیوز؍راست) آج کی قانونی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہندکے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم اول دن سے جو کچھ کہتے آئے ہیں آج چیف جسٹس نے بھی اپنے تبصرہ میں وہی بات دوہرادی کہ وہ کسی کے بولنے کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی کے بولنے پر پابندی لگائے جانے کے حق میں ہیں بلکہ وہ میڈیا میں جو جھوٹی خبریں نشرکی جاتی ہیں اور جس طرح کسی فرد یا فرقہ کی دلآزاری کی جاتی ہے اس کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پچھلے کچھ سالوں سے میڈیا اور خاص طورپر الیکٹرانک میڈیا دانستہ یہی سب کچھ کررہا ہے، اشتعال انگیز بحثیں کرائی جاتی ہیں اور ایک مخصوص فرقے کی دالآزاری کی جاتی ہے، اور یہ بھی باورکرانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یا دکھارہے ہیں وہ سچ ہے جیساکہ تبلیغی جماعت کے معاملہ میں ہوا، انہوں نے آگے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند نے جب اس کو لیکر اپنی عرضی داخل کی تھی تو سالیسٹرجنرل نے اعتراض درج کراتے ہوئے کہا تھا کہ ایساکرکے ہم اظہاررائے کی آزادی پر پابندی لگانا چاہ رہے ہیں ہم نے اس وقت بھی تفصیل سے یہ وضاحت کردی تھی کہ ہم اظہار رائے کی آزادی کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ آج کل میڈیا تعصب کا شکارہوکر جو کچھ دکھارہا ہے وہ نہ صرف ملک کے آئین وقانون کے خلاف ہے بلکہ اس سے ایک مخصوص فرقہ کی دلآزاری کے ساتھ ساتھ کردارکشی کی جارہی ہے، اور آج چیف جسٹس کے تبصرہ سے یہ بات آئینہ کی طرح صاف ہوگئی کہ ہماراموقف صدفیصددرست ہے۔